Mere Qalam Se میرے قلم سے
Sadullah Saad سعداللہ سعد
Sunday, March 6, 2011
Teri yaadon ka silsila bhi hai
تیری یادوں کا سلسلہ بھی ہے
بھول جانے کا حوصلہ بھی ہے
میری سانسوں میں بس گیا ہے تو
اور کہنے کو فاصلہ بھی ہے
Sunday, January 2, 2011
Zindagi kya hai tere baad zarurat ke siwa
زندگی کیا ہےترے بعد ضرورت کےسوا
پھول ہونٹوں پہ مگردل میں کدورت کےسوا
سارےاپنے ہیں مگرکوئی نہیں اپنا میرا
دل میں موجود تیری یاد کی مورت کےسوا
Tuesday, December 21, 2010
Dar se unke bhagaae jaate haiN
غزل
درسےان کےبھگائےجاتےہیں
اب کہاں ہم بلائےجاتےہیں
پہلےنظریں ملائی جاتی تھیں
آج دامن بچائےجاتےہیں
مرکےسوبارجی چکےپھربھی
وہ ہمیں آزمائےجاتےہیں
مصلحت سےبنےتھےجورشتے
ہم انہیں بھی نبھائےجاتےہیں
یاد آتی ہےجب کبھی تیری
ساری دنیابھلائےجاتےہیں
دن تری فکرمیں گزرتاہے
اشک شب میں بہائےجاتےہیں
سعد
پتھرکی ایک مورت کو
اپنےدل کی سنائےجاتےہیں
Thursday, December 9, 2010
UnwaN tera, charcha tera, baateN teri
غزل
عنواں ترا، چرچا
ترا، باتیں تری
تونہیں توساتھ ہیں یادیں تری
سیکڑوں عنواں ہیں تیرے ذکرکے
چہرہ ترا،زلفیں تری،آنکھیں تری
ان پناہوں سےتوعمدہ کچھ نہیں
سایہ ترا،شانہ ترا،باہیں تری
بن تیرے دنیا میں میراہےہی کیا
مجھ میں بستی ہیں صنم سانسیں تری
اک سفرکوچھوڑکرسب ہیں ترے
منزل تری، رہبرترا، راہیں تری
عشق سچا ہےتراتوسعد پھر
کیوں نہیں پہنچیں بتا آہیں تری
Khud ko sanam kade se bachata raha koi
غزل
خود کو صنم کدے سے بچاتا رہا کوئی
لہجہ بدل بدل کے بلاتا رہا کوئی
ہم نےشمع جلا ئی زمانےکےواسطے
گھر میں ہمارے آگ لگاتا رہا کوئی
دوایک ہوں توذکربھی کردوں مگریہاں
عنواں بدل بدل کے ستاتا رہا کوئی
احسان کرکےہم پہ مسلسل مرےخدا
احساس بےبسی کا دلاتا رہا کوئی
غیبی مدد کےجھانسےمیں رکھ کرنہ جانےکیوں
راہ عمل سےہم کوہٹاتا رہا کوئی
نفرت کی بیج بوکےدلوں میں عوام کے
امن واماں کا ڈھونگ رچاتا رہا کوئی
فاقہ کشی کا درد چھپانےکےواسطے
جھوٹی ہنسی لبوں پہ سجاتا رہا کوئی
Chalo aisa kareN sub ko bula leN
چلو ایسا کریں سب کو بلالیں
بکھرنےکا نتیجہ ڈھونڈ ڈالیں
شب غم میں سبھی گھلتےہیں تنہا
کوئی شب ساتھ میں اسکا مزالیں
انہیں دیکھا ہے جب سے ہوش گم ہے
نشے میں ہوں مجھے آکر سنبھالیں
تبسم ہو یا ہو دشنام لب پر
ہمارے واسطے کچھ تو نکالیں
Teri hi saughaat hai janaN
غزل
تیری ہی سوغات ہےجاناں
ہرموسم برسات ہےجاناں
اتراؤنہ حسن پہ اپنے
شہ کےپیچھےمات ہےجاناں
میں ہوں صراحی توپیمانہ
اپنی اپنی بات ہےجاناں
تاریکی سےدن کےیارو
!
سہمی سہمی رات ہےجاناں
توجوہمارےپاس نہیں ہے
یادوں کی بارات ہےجاناں
سعدکےشعروں میں کچھ ہےتو
بہکی بہکی بات ہےجاناں
Newer Posts
Older Posts
Home
Subscribe to:
Posts (Atom)