Sunday, July 17, 2011

Nanhe paudon ko jhulasne se bachana hoga


غزل 

ننھے پودوں کو جھلسنے سے بچانا ہوگا
ان کی ماٹی میں لہو پھر سے پلانا ہوگا 

جنہیں جانا ہے ستاروں سے بھی آگے اک دن
انھیں بنیاد کے بارے میں بتانا ہوگا

اپنی بوسیدہ حویلی کو بچانا ہے اگر
ریت پہ محل بنا ہے جو گرانا ہوگا

جس سے روشن تھا مرے گاؤں کا ماضی کا ضمیر
آج شہروں میں وہی دیپ جلانا ہوگا

کوئی آنے کو نہیں خضرومسیحا بن کر
دیس اپنا ہے ہمیں خود ہی چلانا ہوگا

اپنے ماضی کی طرف لوٹ کے دیکھو تو سہی
'سعد' قدموں میں ترے سارا زمانہ ہوگا 

Monday, May 9, 2011

Zakhm taza hai aashnaai ka



غزل

زخم تازہ ہےآشنائی کا
ذکرچھیڑونہ پارسائی کا

نام لےلےکےجن کاجیتےہیں
ان سےرشتہ ہےبےوفائی کا

عشق کیسا؟ کہاں کی محبوبی
سب تماشہ ہےدل ربائی کا

جان نکلی تو جان جائےگی
درد ملنے کا غم جدائی کا

گرچہ نائب ہیں ہم تیرے مولی
حصہ مانگا کبھی خدائی کا؟

یوں تو زندہ ہیں پھر بھی کہ دینا
کل جنازہ ہے سعد بھائی کا



Sunday, March 6, 2011

Teri yaadon ka silsila bhi hai


تیری یادوں کا سلسلہ بھی ہے
بھول جانے کا حوصلہ بھی ہے
میری سانسوں میں بس گیا ہے تو
اور کہنے کو فاصلہ بھی ہے

Sunday, January 2, 2011

Zindagi kya hai tere baad zarurat ke siwa

زندگی کیا ہےترے بعد ضرورت کےسوا
پھول ہونٹوں پہ مگردل میں کدورت کےسوا
سارےاپنے ہیں مگرکوئی نہیں اپنا میرا
دل میں موجود تیری یاد کی مورت کےسوا

Tuesday, December 21, 2010

Dar se unke bhagaae jaate haiN


غزل

درسےان کےبھگائےجاتےہیں
اب کہاں ہم بلائےجاتےہیں

پہلےنظریں ملائی جاتی تھیں
آج دامن بچائےجاتےہیں

مرکےسوبارجی چکےپھربھی
وہ ہمیں آزمائےجاتےہیں

مصلحت سےبنےتھےجورشتے
ہم انہیں بھی نبھائےجاتےہیں

یاد آتی ہےجب کبھی تیری
ساری دنیابھلائےجاتےہیں

دن تری فکرمیں گزرتاہے
اشک شب میں بہائےجاتےہیں

سعد پتھرکی ایک مورت کو
اپنےدل کی سنائےجاتےہیں

Thursday, December 9, 2010

UnwaN tera, charcha tera, baateN teri

غزل

عنواں ترا، چرچا ترا، باتیں تری
تونہیں توساتھ ہیں یادیں تری

سیکڑوں عنواں ہیں تیرے ذکرکے
چہرہ ترا،زلفیں تری،آنکھیں تری

ان پناہوں سےتوعمدہ کچھ نہیں
سایہ ترا،شانہ ترا،باہیں تری

بن تیرے دنیا میں میراہےہی کیا
مجھ میں بستی ہیں صنم سانسیں تری

اک سفرکوچھوڑکرسب ہیں ترے
منزل تری، رہبرترا، راہیں تری

عشق سچا ہےتراتوسعد پھر
کیوں نہیں پہنچیں بتا آہیں تری

Khud ko sanam kade se bachata raha koi


غزل 


خود کو صنم کدے سے بچاتا رہا کوئی 
لہجہ بدل بدل کے بلاتا رہا کوئی 
                                                                                                   
ہم نےشمع جلا ئی زمانےکےواسطے
گھر میں ہمارے آگ لگاتا رہا کوئی 

دوایک ہوں توذکربھی کردوں مگریہاں
عنواں بدل بدل کے ستاتا رہا کوئی 

احسان کرکےہم پہ مسلسل مرےخدا
احساس بےبسی کا دلاتا رہا کوئی 

غیبی مدد کےجھانسےمیں رکھ کرنہ جانےکیوں
راہ عمل سےہم کوہٹاتا رہا کوئی 

نفرت کی بیج بوکےدلوں میں عوام کے
امن واماں کا ڈھونگ رچاتا رہا کوئی 

فاقہ کشی کا درد چھپانےکےواسطے
جھوٹی ہنسی لبوں پہ سجاتا رہا کوئی